نئی دہلی یکم مئی(آئی این ایس انڈیا) انڈین مسلمس فور پروگریس اینڈ ریفارمس (آئی ایم پی اے آر) نے کوروناجیسی مہلک بیماری کے دوران شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے خوفناک تشدد اور پرامن سی اے اے / این آر سی کے مظاہروں کے تناظر میں گذشتہ چند ہفتوں میں دہلی میں سیکڑوں نوجوانوں کی گرفتاریوں پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ان کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
آئی ایم پی اے آر نے وزیر داخلہ امت شاہ کو کچھ بنیادی نکات پیش کرتے ہوئے ان ملزمین کی رہائی کیلئے کہا ہے کہ ان میں سے بیشتر طلباء لیڈر اور سماجی کارکن ہیں جن میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی 27 سالہ سماجی کارکن سفورا زرگر بھی شامل ہے۔ آئی ایم پی آر اے کے ذریعہ جاری کردہ پریس ریلیز میں سفورا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ نوجوان حاملہ خاتون جسے رمضان کی پہلی رات اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارنی چاہئے تھی دکھ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اس نے جیل میں گذاری۔
آئی ایم پی اے آر کے ممبروں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہیں حکومت ہند پر مکمل اعتماد ہے، اور انہیں یقین ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ سیکیورٹی کے بارے میں مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنائیں گے، لیکن درج ذیل وجوہات کی بنا پر گرفتار افراد کو فوری طور پر ضمانت پر رہا کیا جانا ازحد ضروری اور اہم ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ گرفتاریاں کورونا وائرس کے وبا کے بیچ میں کی گئیں ہیں، جبکہ اس وقت ہندوستان کے ہر شہری کو اس وائرس سے مکمل نگہداشت اور حفاظت کی ضرورت ہے، جس کی وجہ سے حفظان صحت کی حالت اور نظربندی کے دوران خطرے کا سامنا ہے، اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ان لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑسکتی ہیں، جبکہ اس وبائی مرض کے وقت دنیا قیدیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ان میں کچھ لوگوں کو رہا کر رہی اور اس فہرست میں ہمارا ملک بھی شامل ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ متعدد اسیر سیاسی اور سماجی کارکن ہی ہیں، جن میں عمر خالد، شفاء الرحمن، سفورا زرگر اور میران حیدر شامل ہیں، جو کئی مہینوں سے اپنا احتجاج درج کرارہے تھے۔ وہ بھاگنے والے نہیں ہیں اور ہر سطح کی تفتیش میں تعاون کر رہے ہیں۔ ان کیلئے قانون موجود ہے اور انہیں قانون میں یقین بھی ہے، لہذا اس نازک وقت میں ان کی گرفتاری مناسب نہیں ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سفورا زرگر، زیرحراست افراد میں سے ایک ہیں جو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک ریسرچ اسکالر ہے اور وہ اپنی پہلی حمل کے دوسرے سہ ماہی میں ہے، اس لئے وباء پھیلنے کی وجہ سے ان پر یو اے پی اے جیسے قوانین نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے تھی۔حالانکہ سفورا نے اس نازک وقت میں ضروری کام چھوڑکر گھر پر ہی رہنے کو ترجیح دی تھی اس کے باوجود اسے گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ اس وقت ان کی ان کے بچے کی بھلائی کے لیے مناسب ہے کہ انہیں اس سنگین خطرے سے باہر نکالا جائے اوران کا خصوصی دیکھ بھال ہو۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں معزز سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پیش نظر جیلوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے جب کہ نئی دہلی میں تہاڑ جیل بھارت کی ایک بہت ہی پر ہجوم جیلوں میں سے ایک ہے جس میں قید ی دو گنے ہیں، اس نازک وقت پر انہیں وہاں رکھنا درست نہیں ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ COVID-19 کے پھیلنے کی وجہ سے،ہماری عدالتوں نے ان افراد کی رہائی کا حکم دیا ہے جن پر مقدمہ نہیں چلایا گیا ہے، لیکن ان میں سے متعدد زیر حراست افراد پر فسادات، اسلحہ، قتل کی کوشش، تشدد کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ جبکہ دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ ان ملزمین کے معاملے میں سماعت کی اگلی تاریخ 24 جون ہے، اور قیدیوں کو اس نازک وقت میں دو ماہ رکھنا بہت طویل ہوگا، جس کے نا گفتہ بہ نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یو اے پی اے پولیس کو مجرموں کے خلاف باقاعدہ تین ماہ کے لئے الزامات دائر کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ وکلاء اور اہل خانہ پر جیلوں میں جانے پر پابندی ہے اور زیر حراست اپنے وکیلوں سے فون پر بات بھی نہیں کرسکتے ہیں، جو اس نازک وقت میں مناسب نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم پی اے آر کا ماننا ہے کہ یہ سب انسانی حقوق کی آزادی کی خلاف ورزی ہے،عام طلبہ کے خلاف ایسے اقدامات کا استعمال کرنا اور وہ بھی کوویڈ 19 وبا اور ملک گیر تالا بندی کے دوران دکھاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر کا استعمال سی اے اے مخالف پر امن مظاہرے کی قیادت کرنے والی طلبا اور کارکنان کو پھنسانے کیلئے کیا جارہا ہے جو مناسب نہیں ہے۔ بیان میں، ایم ایم پی اے آرکے ممبروں نے بتایا کہ ''اگرچہ دہلی ہائی کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ گرفتاری اور نظربندی سے متعلق سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں کے مطابق گرفتاری عمل میں لائی جائے، لیکن ہم نے وزارت داخلہ سے اپیل کی ہے کہ کوویڈ 19 مہاماری، طبی حالت جس کی وجہ سے جان کو بہت زیادہ خطرہ ہے، رمضان کے اس مقدس مہینے میں، گرفتار افراد کو فوری طور پر ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے، بیان میں کہاگیا ہے کہ ملزمین ہمارے ہی ملک کے شہری ہیں،ان کے بھاگنے کے امکانات معدوم ہیں اور جانچ میں وہ ہر ممکن تعاون کریں گے اس لئے ان کو رہاکیا جانا ضروری ہے۔
آئی ایم پی اے آر کے ممبروں نے کہا ہے کہ تنظیم کا ماننا ہے کہ 1984-کے سکھ مخالف فسادات کے بعد دہلی کے دل کو دہلا دینے والا سانحہ دارالحکومت کا سب سے افسوس ناک واقعہ ہے،جن میں 53 افراد کی ہلاکت، متعدد کو شدید زخمی اور املاک کا خوفناک نقصان ہوا جو یقیناًشرمناک ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ معزز وزیر داخلہ اور حکومت ہند اس صورتحال کے بارے میں ایک انسانی پہلو سے غور فرمائیں گے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم پی اے آر اور اس کے 270 سے زیادہ اہم ارکان پرامید ہیں کہ وزیر داخلہ اور حکومت ہند انصاف کے حق میں ضروری کارروائی کریں گے اور ہم سب کا قانون پر مکمل یقین۔ آئی ایم پی اے آرکے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خالد انصاری نے کہا کہ ''ہمارا پلیٹ فارم حکومت ہند کو منصفانہ اور سچائی پر مبنی تحقیقات کیلئے ہر ممکن مدد دینے کوتیارہے اورہم چاہتے ہیں کہ ملزمین کو قانون کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ گنہگاروں کو جلد از جلد سزا مل سکے۔